مروجہ اسلامی بینکاری میں وکالت کا استعمال ایک تجزياتى مطا لعہ
| dc.contributor.author | محمد عرفان | |
| dc.date.accessioned | 2025-08-04T10:58:11Z | |
| dc.date.available | 2025-08-04T10:58:11Z | |
| dc.date.issued | 2015 | |
| dc.description.abstract | اس مقالہ میں وکالت کے متعلق تفصیلی بحث کی گئی ہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں وکالت جائزہے،اور بنیادی طور پر یہ ایک عقدِ احسان ہے، تاہم اگر اس میں متعین اجرت لی جائے، تو ایسی صورت میں وکیل کے لئے عقد وکا لت میں اس چیز کی خریدو فروخت میں خریدے گئے مال پر قبضہ کرنا اور فروخت کئے گئے مال کے ثمن پر قبضہ کر کے عقد وکالت کو مکمل کرنا واجب ہو گا ،اورمکمل کرنے کے بعد ہی اس پر اجرت لینا جائز ہوگا۔ مذکورہ مقالہ میں ائمہ کےفقہی مذاہب کی روشنی میں وکالت کی متّفقّہ تعریف یہ بنتی ہے کہ ''ایک شخص کا دوسرے شخص کو جائز کاموں کے لئے اپنا قائم مقام بنانا '' | |
| dc.identifier.uri | https://escholar.umt.edu.pk/handle/123456789/4342 | |
| dc.language.iso | en_US | |
| dc.publisher | UMT,Lahore | |
| dc.title | مروجہ اسلامی بینکاری میں وکالت کا استعمال ایک تجزياتى مطا لعہ | |
| dc.type | Thesis |
Files
Original bundle
1 - 1 of 1
No Thumbnail Available
- Name:
- مروجہ اسلامی بینکاری میں وکالت کا استعمال.docx
- Size:
- 153.62 KB
- Format:
- Microsoft Word XML
License bundle
1 - 1 of 1
No Thumbnail Available
- Name:
- license.txt
- Size:
- 1.71 KB
- Format:
- Item-specific license agreed upon to submission
- Description: