نطشے اور اقبال کے تصورانسان کاتقابلی مطالعہ

Loading...
Thumbnail Image
Date
2013
Journal Title
Journal ISSN
Volume Title
Publisher
University of Management and Technology
Abstract
انسانی تہذیب کے اندر جب انسان کا مقام متعین اورواضح ہوجائے تو بہت سارے سوالات خود بخود حل ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے ہر دور میں اہل دانش نے تصورِ انسان پر کام کیا۔ مذہب بے زار اور مذہب پرست دونوں طبقوں نے تصور انسان پرتحقیق کی ہے۔عیسائی پادری کارل لڈوگ نطشے کے فرزندمعروف مغربی فلسفی فریڈرک ولیم نطشے مذہب کا انکار کرتے ہوئے سب سے پہلے اخلاق پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اخلاق کے معنی بدل کر رکھ دیتے ہیں۔وہ انسان کے بارے میں ایک نیا تصور پیش کرتے ہیں۔ مذہبی روایات و اخلاقیات کو توہمات سمجھتے ہیں۔ مذہب اور خدا کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہیں اور بالآخر خدا اور دین سے بغاوت کرکے خدا کے مرنے (The Death of God) کا اعلان کردیتے ہیں۔ان کا نظریہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ کا خدا ہے ۔ قوت اور طاقت جمع کرنا انسان کا اہم فریضہ ہے۔ جس شخص کے پاس طاقت، قوت اور دولت زیادہ ہو وہی حقیقی انسان ہے اور جو ان چیزوں سے محروم ہو وہ انسان کی نسبت بندر سے زیادہ قریب ہے۔نطشے کے زمانے میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء فکری اساس کا درجہ رکھتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جسمانی ارتقاء تو مکمل ہوچکا ہے ،اب نئے اخلاقی اور نفسیاتی ارتقا کا سفر جاری ہے۔وہ جنون کی حد تک انسان پرست تھے اور انسان کوبیک وقت خالق اور مخلوق کا درجہ دیتے تھے۔نطشے کے تین بنیادی اصول بہت معروف ہیں۔ انھوں نے خدا کی جگہ سپر مین کو، خدا کی عنایات و مہربانی کی جگہ قوت اور غلبہ حاصل کرنے کی تند و تیز خواہش کو اور ابدی زندگی کی جگہ تکرار مسلسل کو رکھ دیا ۔ سپر مین کو خدا کا درجہ دیا اور کائنات کو سپر مین کی ملکیت سمجھا۔ دوسری طرف عظیم مشرقی مفکرعلامہ محمداقبال نطشے کے بالکل برعکس مذہب کو بنیاد بناتے ہوئے مسلمانوں کے طرز زندگی اور فکری غلامی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ایک جدید مذہبی تصور ِ انسان پیش کرتے ہیں۔انھوں نے اپنی شعر و شاعری اور خطبات کے ذریعے مسلمانوں کے اندر ایک نیاجوش، جذبہ ، ولولہ اور جنون پید ا کیا۔ ان کا تصور خودی در حقیقت ان کاتصور انسان ہے۔ اقبال کے مرد مؤمن کی پنا ہ گاہ اور مرکزِ قوت عشق و جنون ہے اور اس عشق و جنون سے وہ دنیا کو مسخر کرنا چاہتے ہیں۔اقبال مرد مؤمن کے لیے اطاعت، ضبط نفس اور نیابت الٰہی کوبنیادی اوصاف سمجھتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے ، کائنات ایک تخت ہے اور انسان اس تخت پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اوریہ دونوں مخلوق ہیں۔کائنات مجبور محض ہے جبکہ انسان تکوینی امور میں مجبور محض جبکہ تشریعی امورمیں خود مختار ہے۔ اقبال دنیا میں ربانی نظام کے داعی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انفرادی اور اجتماعی خودی ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔فرد اپنی خودی کے ارتقاء اور استحکام کے بعد ملت کا ایک بیش قیمت سرمایہ بنتا ہے۔ان کے نزدیک خودی اور بے خودی کااصل مقصداسلامی ریاست کا قیام ہے۔ تصور انسان کے حوالے سے مشرق کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے سمجھ رکھا ہے کہ انسان تقدیر کا پابند ہے جبکہ مغرب کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے سمجھ رکھا ہے کہ انسان ہی سب کچھ کرتا ہے۔اقبال نے اسلام کی روح کے مطابق دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ اپنائی۔نطشے اور اقبال کے تصور انسان کے تقابلی مطالعے سے انسان کے حقیقی مقام کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ یہی اس مقالے کا مقصدہے۔
Description
Keywords
M.Phil Thesis, Islamic Thought and Civilization
Citation